محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا


26-03-2019 | محمد حسین فطرتؔ

محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا

عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

 

ائے رہ نوردِ جنت ، ائے رہ روِ مدینہ

تو ہے مری نظر میں انمول اک نگینہ

راہِ خدا میں ہر پل رحمت کا ہے سفینہ

اس پاک در پہ جا کر با شوق و با قرینہ

محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا

عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

اک بار حاضری کا مجھ کو شرف ہو حاصل

سینے میں خوب تڑپے حسرت بھرا مرا دل

آقا کے عاشقوں میں ہو یہ گدا بھی شامل

شاخوں پہ چہچہائیں جب صبحِ دم عنادل

محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا

عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

ائے کاش زندگی میں اک بار دن وہ آئے

جا کر مدینہ دیکھوں وہ دھوپ اور وہ سائے

روضے پہ حاضری دوں نیچے نظر جھکائے

صلِّ علی کا نغمہ ہونٹوں پہ مسکرائے

محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا

عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

ائے کاش رنگ لائیں دن رات کی  یہ آہیں

ہر دم ترس رہی ہیں جلوؤں کو یہ نگاہیں

جن پر فدا دل و جاں وہ پاک جلوہ گاہیں

مہکی ہوئی وہ گلیاں خوشبو بھری وہ راہیں

محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا

عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا

میرا سلام کہنا ، میرا سلام کہنا

با صد خلوص کہنا ، با اہتمام کہنا

نیچے نظر جھکا کر میرا پیام کہنا

پیغمبرِ خدا سے فطرتؔ کا نام کہنا

 

محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا

عالم کے رہنما سے میرا سلام کہنا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اگر خدمتِ خلق کی ہو سعادت
واعظ یہ نہیں ہے وقتِ طرب اٹھ باندھ کمر دستار اٹھا
تجلیات تو دیوار و در سے دور نہیں
فقیروں میں اگرچہ شانِ دارائی نہیں آتی
درسِ اتحادِ ملت