یارب دلِ خستہ کو بیداریٔ فطرت دے

محمد حسین فطرتؔ
یارب دلِ خستہ کو بیداریٔ فطرت دے
کانٹوں کا تفکر دے پھولوں کی بصیرت دے
سمٹے ہوئے انسان کو آفاق کی وسعت دے
خورشید کی شفقت دے دریا کی سخاوت دے
پھولوں کا تبسم دے شبنم کی برودت دے
گلزار کے مالی کو گلزار سے نسبت دے
اظہار کی قوّت دے گفتار کی لذت دے
الفاظ و معنی کو پیراہنِ ندرت دے
گلچینیٔ رفتہ کا انداز نہیں باقی
اربابِ گلستاں کو کچھ پاسِ روایت دے
میں خیر کا طالب ہوں اور حُسن کا شائق ہوں
کانٹوں کو بھی پھولوں کی رعنائی و نکہت دے
احساس کو گرمانا دشوار نہیں تُجھ کو
تو چاہے تو اے قادر پتھر کو بھی حرکت دے
بلبل ہے بہت شائق آسائشِ گلشن کی
اس مرغ تن آساں کو پرواز کی زحمت دے

خاموشیٔ گلشن میں فطرتؔ کا تکلم ہے
اربابِ گلستاں کو پھر تاب سماعت دے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام