ہماری لغزشیں کرتی ہیں ان کی پرورش ورنہ


27-01-2016 | ابن حسؔن بھٹکلی

ہماری لغزشیں کرتی ہیں ان کی پرورش ورنہ

یہ وقتی گردشیں ہیں یہ یونہی برپا نہیں ہوتیں

عجب سا حوصلہ ہوتا ہے ، امواجِ تلاطم میں

مسلسل سر پٹختی ہیں ۔۔۔ مگر پسپا نہیں ہوتیں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
حسرتیں اتنی زیادہ ہیں کہ بس اب کیا کہیں
چهو چهو کے اڑ رہی ہیں اسے شوخ تتلیاں
زباں پر جب حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے
ایسا لگتا ہے چمن میں پھر بہار آنے کو ہے
چلنا بھی ہے چلنے کا ارادہ بھی نہیں ہے