ہماری لغزشیں کرتی ہیں ان کی پرورش ورنہ


27-01-2016 | ابن حسؔن بھٹکلی

ہماری لغزشیں کرتی ہیں ان کی پرورش ورنہ

یہ وقتی گردشیں ہیں یہ یونہی برپا نہیں ہوتیں

عجب سا حوصلہ ہوتا ہے ، امواجِ تلاطم میں

مسلسل سر پٹختی ہیں ۔۔۔ مگر پسپا نہیں ہوتیں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کسی کا ساتھ نبھانا تھا اور کیا کرتا
مضطرب ہوں ، قرار دے اللہ
حسرتیں اتنی زیادہ ہیں کہ بس اب کیا کہیں
کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
وقت آخر ٹہر گیا کیسے؟