چهو چهو کے اڑ رہی ہیں اسے شوخ تتلیاں


06-02-2019 | ابن حسؔن بھٹکلی

چهو چهو کے اڑ رہی ہیں اسے شوخ تتلیاں

چڑیاں چہک رہی ہیں اسے دیکھ دیکھ کر

 

اس کے رخ جمیل کی رعنائیاں نہ پوچھ

کلیاں چٹک رہی ہیں اسے دیکھ دیکھ کر




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
سب کچھ دھواں دھواں تھا مگر دیکھتے رہے
ایسا لگتا ہے چمن میں پھر بہار آنے کو ہے
چهو چهو کے اڑ رہی ہیں اسے شوخ تتلیاں
چلنا بھی ہے چلنے کا ارادہ بھی نہیں ہے
ہماری لغزشیں کرتی ہیں ان کی پرورش ورنہ