زندگانی کو وقفِ شریعت کرو


28-01-2016 | اعجازؔ رحمانی

زندگانی کو ۔۔۔۔ وقفِ شریعت کرو

اپنے گھرسے اندھیروں کو رخصت کرو

دشمنوں کو بھی ۔۔ بڑھ کر لگاؤ گلے

مصطفیٰ کی طرح سب کی خدمت کرو

اپنی اولاد ۔۔ کو اچھی ۔۔۔ تعلیم دو

اپنے سرمایہ کو ۔۔۔ بیش قیمت کرو

آبیاری ۔۔ کرو ۔۔۔ نخلِ ایمان کی

دھوپ کو ۔۔۔ سایۂ ابرِ رحمت کرو

اپنے گھر کو بھی ۔۔ دیکھو بقولِ نبی

اپنے ہمسایہ کی ۔۔ بھی اعانت کرو

تھام کر ۔۔ دامنِ ۔۔۔ سید الانبیاء

بندگانِ۔۔ خدا کی ۔۔۔ قیادت کرو

تم زمانہ کے ۔۔ محبوب بن جاؤ گے

اس سراپا کرم ۔۔۔ سے محبت کرو

غیر کے سامنے کیوں جھکاتے ہو سر

اپنے اللہ سے صرف ۔۔۔ منت کرو

ہے نبی سے ۔۔ محبت کا دعویٰ اگر

پیش صورت نہیں اپنی سیرت کرو

چاہتے ہو۔۔ جو کونین۔۔ میں آبرو

پیرویٔ نبی ۔۔۔ رب کی مدحت کرو

 

مانگ کر سایۂ دامنِ مصطفیٰ

اس جہنم کو اعجازؔ جنت کرو




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
یہ عالم ہے ہماری تشنگی کا
جتنے بھی ہیں ازم جہاں کے ان سب کو ناکام کرو
زندگانی کو وقفِ شریعت کرو
مشعلِ سیرتِ سرکار جلا رکھی ہے
ہم لوگ مسلماں ہیں،مسلماں ہیں،مسلماں