چڑیاں چہک رہی ہیں وفورِ خوشی سے اب

غزل| ابن حسؔن بھٹکلی انتخاب| بزم سخن

چڑیاں چہک رہی ہیں وفورِ خوشی سے اب
شاید گزر رہا ہے وہ میری گلی سے اب
سورج تو چھپ گیا ہے اندھیروں کے خوف سے
جگنو کو کیا ڈرائے کوئی تیرگی سے اب
قائل نہیں ہوں ایسی کسی بات کا مگر
محظوظ ہو رہا ہوں تری کج روی سے اب
اے میرے درد! مجھ سے ذرا گفتگو تو کر
میں تنگ آ گیا ہوں تری خامشی سے اب
بر وقت میرے غم کا مداوا کرے گا کون
واقف نہیں ہے کوئی مری زندگی سے اب
مجھ کو تری تلاش نے یہ کیا بنا دیا
مانوس ہو گیا ہوں میں آوارگی سے اب

ابنِ حسؔن وہ فکر جو محدود تھی کبھی
تحریک پا رہی ہے مری شاعری سے اب


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام