حدوں سے سب گزر جانے کی ضد ہے


18-05-2019 | عاؔزم بھٹکلی

حدوں سے سب گزر جانے کی ضد ہے

ترے دل میں اتر جانے کی ضد ہے

 

ہماری دل لگی چھٹتی نہیں اور

تمہیں اس پر سنور جانے کی ضد ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
حدوں سے سب گزر جانے کی ضد ہے
ترے لفظوں کے بہکائے ہوئے ہیں