نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُرالم نکلے


17-05-2019 | مرزا داغؔ دہلوی

نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُر الم نکلے

جو یہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

تمنا وصل کی اک رات میں کیا ائے صنم نکلے

قیامت تک یہ نکلے گر نہایت کم سے کم نکلے

مرے دل سے کوئی پوچھے شبِ فرقت کی بے تابی

یہی فریاد تھی لب پر کہ یا رب جلد دم نکلے

ہوئے مغرور جب جب آہ میری بے اثر دیکھی

کسی کا اس طرح یا رب نہ دنیا ميں بھرم نکلے

مبارک ہو یہ گھر غیروں کو تم کو پاسبانوں کو

ہمارا کیا اجارہ ہے ، نکالا تم نے ، ہم نکلے

نہ اٹھے مر کے بھی ایسے ترے کوچے میں ہم بیٹھے

محبت ميں اگر نکلے تو ہم ثابت قدم نکلے

رہِ الفت کو اک سیدھا سا رستہ ہم نے جانا تھا

مگر دیکھا تو اس رستے ميں صدہا پیچ و خم نکلے

سمجھ کر رحم دل تم کو دیا تھا ہم نے دل اپنا

مگر تم تو بلا نکلے ، غضب نکلے ، ستم نکلے

نہ نکلا دل ہی سینے سے نہ پیکاں ہی جدا نکلا

اگر نکلے تو دونوں آشنا ہو کر بہم نکلے

برا ہو اس محبت کا کہ اس نے جان سے کھویا

لگا دل اس ستمگر سے اجل کا جس سے دم نکلے

دمِ پُرسش جو دیکھا اُس بتِ سفّاک کو مُضطر

صفِ محشر سے دل پکڑے ہوئے گھبرا کے ہم نکلے

کہیں کیا دل میں کیا آيا ، کہیں کیا منہ سے کیا نکلا

کہیں جو چلتے پھرتے ہم سوئے بیت الصنم نکلے

 

گئے ہیں رنج و غم اے داؔغ بعدِ مرگ ساتھ اپنے

اگر نکلے تو یہ اپنے رفیقانِ عدم نکلے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
تم نے بدلے ہم سے گِن گِن کے لئے
بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں
نکال اب تیر سینے سے کہ جانِ پُرالم نکلے
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
آرزو یہ ہے کہ نکلے دَم تُمہارے سامنے