ترے لفظوں کے بہکائے ہوئے ہیں


07-05-2019 | عاؔزم بھٹکلی

ترے لفظوں کے بہکائے ہوئے ہیں

فقط وعدوں سے بہلائے ہوئے ہیں

تمازت جب شبِ فرقت میں آئی

تری یادوں کے تب سائے ہوئے ہیں

یہ کیوں بہکے ہوئے ان کے قدم ہیں

نشے میں ہیں کہ اِترائے ہوئے ہیں؟

ہمارے ظرف کا ہے غیر قائل

برے اپنوں میں کہلائے ہوئے ہیں

ہماری چاک دامانی کو چھوڑو

تمہاری زلف سلجھائے ہوئے ہیں

خرد کا مرتبہ اونچا ہے لیکن

جنوں کا طور اپنائے ہوئے ہیں

تھی رونق تم سے تم جب سے گئے ہو

چمن میں پھول مرجھائے ہوئے ہیں

صنم کی یاد سے بچنے کو عاؔزم

غزل میں ذہن الجھائے ہوئے ہیں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ترے لفظوں کے بہکائے ہوئے ہیں