کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن


19-05-2019 | افتخار راغبؔ

کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن

جب ہے سرکارؐ کا ہر نقشِ کفِ پا روشن

جس کو حاصل ہو رضا اور شفاعت اُنؐ کی

ہے اُسی شخص کی قسمت کا ستارا روشن

آپؐ آئے ہیں اندھیروں کو مٹانے کے لیے

کیوں نہ ہو آپؐ کا ہر طور طریقہ روشن

حبِّ سرکارِ دوعالمؐ جو بسالے دل میں

دونوں عالم میں ہو خوش بخت کا چہرہ روشن

دیکھ کر ظلم نہ بیٹھے گا وہ بے حس کی طرح

جس کے سینے میں ہے ایمان کا جذبہ روشن

زندگی بھر وہ جلائے گا محبّت کے چراغ

آپؐ کے نور سے جس کا ہے عقیدہ روشن

آپؐ کے چاہنے والوں کی یہی چاہت ہے

شمعِ ایماں رہے سینے میں ہمیشہ روشن

جس کو حاصل نہیں آقاؐ کی غلامی راغبؔ

دین روشن ہے نہ اس شخص کی دنیا روشن




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں
غبار دل سے نکال دیتے
کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
جو بھی چلاّ کے ترنم میں ہیں گانے والے