صبح کو صبح کہا اور میں بدنام ہوا

عاؔزم بھٹکلی
صبح کو صبح کہا اور میں بدنام ہوا
ہم نشیں دیکھ صداقت کا یہ انجام ہوا
کب دواوؤں سے دعاوؤں سے کوئی کام ہوا
دل کو بس ذکرِ رخِ یار سے آرام ہوا
جو شکایت ہو اکیلے میں گلہ کہلائے
وہ تماشا ہے مری جاں جو سرِعام ہوا
ان کی ہر بات زمانے کے لیے خاص سہی
جن کا چپ رہنا ہمارے لیے پیغام ہوا
سب لٹایا جسے پانے کے لئے پا نہ سکے
تب کہیں جا کے یہ دل پیکرِ آلام ہوا
سچ تو یہ ہے کہ نگاہوں نے شرارت کی تھی
دل بچارہ تو عبث موردِ الزام ہوا
ہم نے عازمؔ کو کسی شام تڑپتے دیکھا
پھر یہی سانحہ ہر روز سرِشام ہوا

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام