حالت اسے دل کی نہ دکھائی نہ بیاں کی

غزل| شجاعؔ خاور انتخاب| بزم سخن

حالت اسے دل کی نہ دکھائی نہ بیاں کی
خیر اس نے نہ کی بات تو ہم نے بھی کہاں کی
پہلے تو ہنسا زور سے پھر آہ و فغاں کی
مستی میں قلندر نے بڑی دور کی ہانکی
ایک ایک ستم گار کو قدموں میں گرا کر
کل ہم نے تصور کی زباں خوب رواں کی
اللہ کا بندہ کوئی گھر سے نہیں نکلا
تفسیر سبھی کرتے رہے کون و مکاں کی
ایک اس کا سراپا ہے کہ بس میں نہیں آتا
کیا ہو گئی حالت مرے اندازِ بیاں کی
تھا شہرِ تصور میں عجب خوف کا عالم
تشبیہ بھی لفظوں کے دریچے سے نہ جھانکی
طوفانِ معانی مرے ہر لفظ کے پیچھے
تیزی ہے ہر اک شعر میں دلی کی زباں کی
صحرائے عدم کا بھی شجاؔع اپنا مزہ ہے
تم سوچتے رہتے ہو فقط گلشنِ جاں کی



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام