آنکھوں سے بھی ہم عرضِ تمنا نہیں کرتے

غزل| ساغرؔ نظامی انتخاب| بزم سخن

آنکھوں سے بھی ہم عرضِ تمنا نہیں کرتے
مبہم سا اشارہ بھی گوارا نہیں کرتے
ناموسِ خودی کو کبھی رسوا نہیں کرتے
مرتے ہیں مگر شکوۂ دنیا نہیں کرتے
پینے پہ جو آتے ہیں تو سوچا نہیں کرتے
اندازۂ کیف و کمِ صہبا نہیں کرتے
گرداب سے کشتی کو بچایا نہیں کرتے
بے حرمتیٔ موجہ و دریا نہیں کرتے
حاصل ہے جنہیں دولتِ صد آبلہ پائی
وہ شکوۂ بے رنگئ صحرا نہیں کرتے
اک مرگِ مسلسل ہے مری جاں غمِ دنیا
زندہ ہیں وہی جو غمِ دنیا نہیں کرتے
صد شکر کہ دل میں ابھی اک قطرۂ خوں ہے
ہم شکوۂ بے رنگئ دنیا نہیں کرتے
جو دل ہے تری یاد کا اک معبدِ رنگیں
اس دل کو ہم آلودۂ دنیا نہیں کرتے
مقصود عبادت ہے فقط دید نہیں ہے
ہم پوجتے ہیں آپ کو دیکھا نہیں کرتے
کافی ہے ترا نقشِ قدم چاہے جہاں ہو
ہم پیروئ دیر و کلیسا نہیں کرتے
سجدہ بھی ہے منجملۂ اسبابِ نمائش
جو خود سے گزر جاتے ہیں سجدا نہیں کرتے
جوں ساغرِ لبریز چھلک جائے نہ محفل
اس تشنگیٔ شوق سے دیکھا نہیں کرتے
سو زندگیاں ہوں تو کریں تجھ پہ نچھاور
ہم عشق میں جینے کی تمنا نہیں کرتے
جن کو ہے تری ذات سے یک گونہ تعلق
وہ تیرے تغافل کی بھی پروا نہیں کرتے
یہ لمحۂ حاضر تو ہے کونین کا حاصل
ہم حال کو نذرِ غمِ فردا نہیں کرتے
آدابِ خمستاں سے وہ محروم ہیں ساغرؔ
جو تلخیٔ دوراں کو گوارا نہیں کرتے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام