کیا گلہ غیروں کا خود ہی سانحہ لے کر چلے

غزل| جگن ناتھ آزاؔد انتخاب| بزم سخن

کیا گلہ غیروں کا خود ہی سانحہ لے کر چلے
پتھروں کے شہر میں ہم آئینہ لے کر چلے
ہم میں اور اُن میں ازل کے روز جو حائل رہا
ہم وہی روزِ ابد تک فاصلہ لے کر چلے
باوجودِ کسمپرسی دل کہیں تنہا نہ تھا
ہر جگہ یادوں کا ہم اک قافلہ لے کر چلے
ان دنوں کچھ جادہ و منزل کا عالم اور ہے
جس کو چلنا ہو فقیروں کی دعا لے کر چلے

جس جگہ دنیا تھی اور دنیا کا دامانِ طلب
ہم وہاں بس اک دلِ بے مدّعا لے کر چلے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام