کس متاعِ شوق کی ہم جستجو کرتے رہے

غزل| جگن ناتھ آزاؔد انتخاب| بزم سخن

کس متاعِِ شوق کی ہم جستجو کرتے رہے
زندگی بھر زندگی کی جستجو کرتے رہے
جب حریفوں کی زباں تھی شعلہ گفتاری میں غرق
ہم تغزل کی زباں میں گفتگو کرتے رہے
اور ہوں گے جن کو ہو گا چاک دامانی پہ ناز
ہم جنوں میں چاک داماں کو رفو کرتے رہے
اصل میں ہم تھے تمہارے ساتھ محوِ گفتگو
جب خود اپنے آپ سے ہم گفتگو کرتے رہے
اے خرد مندو! جنوں سے جب کہ ناواقف تھے تم
سوچتا ہوں کس طرح تم ہائے و ہو کرتے رہے
ان کو اب نفع و ضرر کی بات کیا سمجھائیں ہم
وہ جو سودائے متاعِ آبرو کرتے رہے
پینے والوں کا جب اوروں کے لہو پر تھا مدار
ہم شریکِ جام اپنا ہی لہو کرتے رہے
گوہرِ مقصد نہ پایا گر چہ ہم اس کی تلاش
یم یہ یم دریا بہ دریا جو بہ جو کرتے رہے

کوئ یہ آزادؔ سے پوچھے کہ اپنے دل سے دور
تم کہاں جا کر تلاشِ رنگ و بُو کرتے رہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام