زبان بند رہی دل کا مدّعا نہ کہا

غزل| اخترؔ انصاری اکبر آبادی انتخاب| بزم سخن

زبان بند رہی دل کا مدّعا نہ کہا
مگر نگاہ نے اس انجمن میں کیا نہ کہا
رہا خموش کہ اُس بے وفا کو کیا کہتا
مری وفا کو بھی جس نے کبھی وفا نہ کہا
محیطِ شوق میں ہم ڈوبتے ابھرتے رہے
خدا گواہ کبھی جورِ ناخدا نہ کہا
صنم کدہ ہے کہ اک محفلِ خداونداں
بہت خفا ہوا وہ بت جسے خدا نہ کہا
ہزار خضر نما لوگ راستوں میں ملے
ہمارے دل نے کسی کو بھی رہنما نہ کہا
یہ کائنات تو ہے خیر مجھ سے بیگانہ
اگر نگاہ نے تیری بھی آشنا نہ کہا

جہاں میں راز تھی رندی مری مگر اخترؔ
غضب یہ میں نے کیا خود کو پارسا نہ کہا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام