کس نے کہا کہ داؔغ وفا دار مر گیا

غزل| مرزا داغؔ دہلوی انتخاب| سید ریّان

کس نے کہا کہ داغؔ وفا دار مر گیا
وہ ہاتھ مل کے کہتے ہیں کیا یار مر گیا
دام بلائے عشق کی وہ کشمکش رہی
اک اک پھڑک پھڑک کے گرفتار مر گیا
میرے ہی دم سے زندہ ہے آزار عشق کا
میں مر گیا اگر تو یہ آزار مر گیا
محجوب کر نہ جرم فغاں پر کہ لطف کیا
شرمِ گناہ سے جو گنہگار مر گیا
بیداد گر کو رہ گئی کیا حسرتِ ستم
جب اپنی موت کوئی دل افگار مر گیا
بدتر ہے موت سے بھی زیادہ یہ زندگی
وہ جی گیا جو عشق کا بیمار مر گیا
ہے تیری جنس حسن میں تاثیر زہر کی
جس کی نظر پڑی وہ خریدار مر گیا
آنکھیں کھلی ہوئی ہیں پسِ مرگ اس لئے
جانے کوئی کہ طالبِ دیدار مر گیا
جس سے کیا ہے آپ نے اقرار جی گیا
جس نے سنا ہے آپ سے انکار مر گیا
کس بیکسی سے داؔغ نے افسوس جان دی
پڑھ کر ترے فراق کے اشعار مر گیا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام