وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے


07-02-2019 | ڈپتی مشرؔا

وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے

یہ اگر رسم و رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے

سچ کو میں نے سچ کہا جب کہہ دیا تو کہہ دیا

اب زمانے کی نظر میں یہ حماقت ہے تو ہے

جل گیا پروانہ تو شمع کی اس میں کیا خطا

رات بھر جلنا جلانا اس کی قسمت ہے تو ہے

دوست بن کر دشمنوں میں وہ ستاتا ہے مجھے

پھر اسی ظالم پہ مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے

کب کہا میں نے کہ وہ مل جائے مجھ کو میں اُسے

غیر ہونہ جائے وہ بس اتنی حسرت ہے تو ہے

دور تھے اور دور ہیں ہردم زمیں و آسماں

دوریوں کے بعد بھی دونوں میں قربت ہے تو ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے
مجھے پیار کرتے ہو ، کرتے رہو پر ۔ ۔ ۔