حسرتیں اتنی زیادہ ہیں کہ بس اب کیا کہیں


02-09-2016 | ابن حسؔن بھٹکلی

حسرتیں اتنی زیادہ ہیں کہ بس اب کیا کہیں

ہم بھی فانی اور یہ دنیا بھی فانی ۔۔ خیر ہو

 

کیا خبر کب سانس کہہ دے زندگی کوالوداع

ہو رہے ہیں ۔۔ حادثاتِ ناگہانی ۔۔ خیر ہو




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
زباں پر جب حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے
مضطرب ہوں ، قرار دے اللہ
ایسا لگتا ہے چمن میں پھر بہار آنے کو ہے
حسرتیں اتنی زیادہ ہیں کہ بس اب کیا کہیں
عید قرباں اصل میں ایثار ابراہیم ہے