چلنا بھی ہے چلنے کا ارادہ بھی نہیں ہے


11-04-2019 | ابن حسؔن بھٹکلی

چلنا بھی ہے چلنے کا ارادہ بھی نہیں ہے

در اصل موافق کوئی جادہ بھی نہیں ہے

اوروں سے محبت کا طلب گار ہے لیکن

اے دوست! ترا دل تو کشادہ بھی نہیں ہے

دستار کی خواہش تو کبھی اور کروں گا

فی الحال مرے پاس لبادہ بھی نہیں ہے

جو کچھ بھی میسر ہے اسی پر ہوں میں قانع

کچھ کم بھی نہیں اور زیادہ بھی نہیں ہے

یہ بزمِ سخن ہے یہاں واعظ نہیں آتے

ساغر بھی نہیں ہے یہاں بادہ بھی نہیں ہے

اے ابن حسنؔ ! اپنا رویہ بھی بدل دے

اک لہجہ بدلنے میں افادہ بھی نہیں ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
چلنا بھی ہے چلنے کا ارادہ بھی نہیں ہے
کسی کا ساتھ نبھانا تھا اور کیا کرتا
چهو چهو کے اڑ رہی ہیں اسے شوخ تتلیاں
دسترس میں ہو نہ ہو کچھ اور بس یوں ہی سہی
زباں پر جب حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے