جتنے بھی ہیں ازم جہاں کے ان سب کو ناکام کرو


08-07-2015 | اعجازؔ رحمانی

جتنے بھی ہیں ازم جہاں کے .... ان سب کو ناکام کرو

 

دل میں اگر ہے حبِ محمد(ﷺ) درسِ محمد عام کرو

توڑ دو سارے میخانوں کو....... ختم یہ دورِ جام کرو

 

شمعِ رسالت کے پروانو.......... تبلیغِ اسلام کرو

فکرِ محمد (ﷺ) کو اپناؤ....... ترک خیال ِخام کرو

 

بن کے غلامِ سرورِ عالم.. دونوں جہاں میں نام کرو

راہ گذر میں غیر کی یارو.... پھول نہیں ہیں کانٹے ہیں

 

شاہِ امم کی راہ پر چل کر،زیست کو خوش انجام کرو

واعظ.. صوفی.. شیخ اور ساقی.. لڑتے ہیں تو لڑنے دو

 

ان کے پھیر میں پڑکر لوگو..دین کو مت بدنام کرو

حکم محمد(ﷺ) کا بھی یہی ہے ، مسلکِ شبیری بھی یہی

 

خطرے میں جب دین خدا ہو... سر اپنے نیلام کرو

کوثر، جنت حور اور غلماں سب کچھ ہے مومن کے لئے 

 

شاہ ِامم کے خادم بن کر...... حاصل یہ انعام کرو

 

سیرت کے جلسوں کو مقصداور کوئی اعجاز ؔ نہیں

لائے رسول اکرم جس کو، پیش وہی پیغام کرو




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
زندگانی کو وقفِ شریعت کرو
جتنے بھی ہیں ازم جہاں کے ان سب کو ناکام کرو
مشعلِ سیرتِ سرکار جلا رکھی ہے
سب کچھ ہے خدا،اُس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
چمن میں آمدِ خیر الوری کی جب خبر پائی