یہ عالم ہے ہماری تشنگی کا


28-07-2015 | اعجازؔ رحمانی

یہ عالم ہے۔۔۔۔۔۔ ہماری تشنگی کا

زباں پر پیاس سے کانٹے پڑے ہیں

کوئی دیکھے تو۔۔۔۔۔ محرومی ہماری

سمندر پر بھی ہم پیاسے کھڑے ہیں 




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کوئی بتائے کب بدلے گی اپنا یہ معمول ہوا
ہم لوگ مسلماں ہیں،مسلماں ہیں،مسلماں
یہ عالم ہے ہماری تشنگی کا
چمن میں آمدِ خیر الوری کی جب خبر پائی
زندگانی کو وقفِ شریعت کرو