میں سوچ رہا ہوں گلشن کی تزئین کا ساماں کیا ہوگا


28-06-2015 | محمد حسین فطرتؔ

میں سوچ رہا ہوں،... گلشن کی تزئین کا ساماں کیا ہوگا

تخریب کا داعی ہر گل ہے،....... تعمیر کا امکاں کیا ہوگا

فیضان ِ صبا سے خندہ بہ لب،... اک خارِ مغیلاں کیا ہوگا

آغوشِ خزاں کا پروردہ ،........مانوسِ بہاراں کیا ہوگا

حالات سے ڈرنے والوں کو حالات کا عرفاں کیا ہوگا

ساحل پر بیٹھے رہنے سے،....... اندازۂ طوفاں کیا ہوگا

اسلام نے آ کر بتلایا،...........  انساں کو مقامِ انسانی

ائے اہلِ جہاں اس سے بڑھ کر تہذیب پہ احساں کیا ہوگا

بے کل ہے صبا ، مغموم ہے گل ، فریاد بہ لب ہے ہر بلبل

آغازِ بہاراں جب یہ ہے ،........انجامِ بہاراں کیا ہوگا

تمئیزِ خیرو شر نہ رہی،..... ادراکِ حق و باطل نہ رہا

ائے اہلِ جہاں!.... اسے بڑھ کر پھر فتنۂ دوراں کیا ہوگا

آرام سے سونے والوں کو... توفیقِ فغاں ہو کیا حاصل

جو بسترِ راحت پر لیٹے، ........... وہ صبح کونالاں کیا ہوگا

آزاد طبیعت ہو جس کی کیوں شاد اسیری میں وہ رہے

طائر ہے چمن کا پروردہ،... مجلس میں غزل خواں کیا ہوگا

ممکن نہیں تبدیلی آئے اشیائے جہاں کی فطرتؔ میں

پتھر ہے بہر صورت پتھر،یہ لعل بدخشاں کیا ہوگا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
واعظ یہ نہیں ہے وقتِ طرب اٹھ باندھ کمر دستار اٹھا
کلی اداس سہی پھول بے قرار سہی
فقیروں میں اگرچہ شانِ دارائی نہیں آتی
ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
اگر خدمتِ خلق کی ہو سعادت