اگر خدمتِ خلق کی ہو سعادت


13-07-2015 | محمد حسین فطرتؔ

اگر خدمتِ خلق... کی ہو... سعادت

کوئی اس سے بڑھ کر عبادت نہیں ہے

یہ نیکی ہے... دو بول.... میٹھے جو بولو

فقط... اک تہجد.... عبادت نہیں ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ
کنارے پہ دریا کے مردہ پڑا تھا
فقیروں میں اگرچہ شانِ دارائی نہیں آتی
محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
چمن کو اپنا لہو پلایا نمودِ برگ و ثمر سے پہلے