اگر خدمتِ خلق کی ہو سعادت


13-07-2015 | محمد حسین فطرتؔ

اگر خدمتِ خلق... کی ہو... سعادت

کوئی اس سے بڑھ کر عبادت نہیں ہے

یہ نیکی ہے... دو بول.... میٹھے جو بولو

فقط... اک تہجد.... عبادت نہیں ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ہم شانہ کشِ زلفِ گیتی،ترانہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل
تجلیات تو دیوار و در سے دور نہیں
واعظ یہ نہیں ہے وقتِ طرب اٹھ باندھ کمر دستار اٹھا
برادرانہ تعلق جو خاک ہوتا ہے
اگر خدمتِ خلق کی ہو سعادت