خوشی چاہتا ہوں نہ غم چاہتا ہوں

عبد العلیم شاہینؔ
خوشی چاہتا ہوں نہ غم چاہتا ہوں
تری اک نگاہِ کرم چاہتا ہوں
بہت چاہتا ہوں کہ کم چاہتا ہوں
سکوں اپنے دل کو بہم چاہتا ہوں
رہے تجھ سے اک نسبتِ خاص مجھ کو
ترا ساتھ ہر ہر قدم چاہتا ہوں
ضرورت نہیں ہے کسی راہبر کی
محمدﷺ کا نقشِ قدم چاہتا ہوں
دل و جاں میں تو ہی سمایا ہوا ہے
تجھ ہی کو میں تیری قسم چاہتا ہوں
گوارا نہیں ہے کسی کی غلامی
جبیں ہو ترے آگے خم چاہتا ہوں
عطا ہو مجھے علم وحکمت کی دولت
نہ زر اور نہ جاہ و حشم چاہتا ہوں
الہی ! مجھے لوگ کہتے ہیں شاہیںؔ
میں پرواز میں اپنی دم چاہتا ہوں

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام