برادرانہ تعلق جو خاک ہوتا ہے

غزل| محمد حسین فطرتؔ انتخاب| بزم سخن

برادرانہ تعلق جو خاک ہوتا ہے
تو بھائی بھائی کے ہاتھوں ہلاک ہوتا ہے
محل نشیں بھی تو اک دن ہلاک ہوتا ہے
یہ پتلا سونے کا پیوند خاک ہوتا ہے
چمن میں ایسے بھی منظر دکھائی دیتے ہیں
ابھی کھلا نہ تھا غنچہ کہ خاک ہوتا ہے
بہت سے لوگ اسی سے سدا بہلتے ہیں
مرے لئے جو سماں دردناک ہوتا ہے
بہار کروٹیں لیتی ہے رقص کرتی ہے
چمن میں پھول جہاں سینہ چاک ہوتا ہے
جناب شیخ! مجھے آپ اتنا بتلا دیں
کہ کس کا نامۂ اعمال پاک ہوتا ہے

جہاں میں یونہی فضیلت کسے ملی فطرتؔ
وہ گل مہکتا ہے جو سینا چاک ہوتا ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام