کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے


08-08-2016 | کلیم احمد عاجزؔ

کہو صبا سے کہ ۔۔ میرا سلام لے جائے

سلام ہی میں چھپا ہے ۔۔ پیام لے جائے

لہو سے دل کے ہے لبریز جام لے جائے

حضور (ﷺ) تک کوئی میرا کلام لے جائے

نقوش ۔۔ خونِ جگر نے جو کچھ بنائے ہیں

سب انتساب انہیں کے ہے نام لے جائے

دکھا تو دے کہ گذرتی ہے زندگی کیسی

یہ روز و شب یہ مری صبح و شام لے جائے

 

غریب دل سے نچوڑے ہوئے ہیں پانچ اشعار 

یہ ۔۔۔ میرا حوصلۂ نا تمام ۔۔۔ لے جائے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
غزلیں بھی کہیں پُرغم کتنی اس پر بھی علاجِ غم نہ ہوا
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
ہم نشیں ، آ ذرا دل کھول کے کچھ بات کریں
تم گُل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے
کہو صبا سے کہ میرا سلام لے جائے