جب سے بیٹا تبصرہ کرنے لگا

غزل| رئیسؔ الشاکری انتخاب| بزم سخن

جب سے بیٹا تبصرہ کرنے لگا
باپ مرنے کی دعا کرنے لگا
میرا کیا ہے عمر کا آخر ہوں میں
وہ بھی خود کو بے مزہ کرنے لگا
کام باقی ہیں زمیں کے اور وہ
آسماں کا حوصلہ کرنے لگا
منزلوں کے حسن کو آواز دو
عشق پھر سے راستہ کرنے لگا
چوم لی جنت نے پیشانی مری
میں جو ماں کا تذکرہ کرنے لگا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام