سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے

غزل| مظفرؔ وارثی انتخاب| بزم سخن

سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے
ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے
رقم تھیں اپنے چہرے پرخراشیں
میں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے
یہ کیسی روشنی تھی میرے اندر
کہ مجھ پر دھوپ کا سایہ پڑا ہے
مری آنکھوں میں تم کیا جھانکتے ہو
تہوں میں آنسوؤں کے کیا پڑا ہے
حواس و ہوش ہیں بیدار لیکن
ضمیر انسان کا سویا پڑا ہے
بدن شوقین کم پیراہنی کا
در و دیوار پر پردہ پڑا ہے
اٹھا تھا زندگی پر ہاتھ میرا
گریباں پر خود اپنے جا پڑا ہے
محبت آنسوؤں کے گھاٹ لے چل
بہت دن سے یہ دل میلا پڑا ہے
زمیں ناراض ہے کچھ ہم سے شاید
پڑا ہے پاؤں جب الٹا پڑا ہے
ڈبو سکتی نہیں دریا کی لہریں
ابھی پانی میں اک تنکا پڑا ہے
مظفرؔ رونقوں میلوں کا رسیا
ہجومِ درد میں تنہا پڑا ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام