اس کی عادت ہے بھلا دیتا ہے وعدہ کرکے


22-12-2015 | مظفرؔ وارثی

اسکی عادت ہے بھلا دیتا ہے وعدہ کرکے  

ملنا پڑتا ہے ۔۔۔ نہ ملنے کا ارادہ کرکے

گہری کچھ اور بھی خاموشیاں ہوجاتی ہیں

جب پکاروں اسے ۔۔ آواز زیادہ کرکے

حسن کا راز خد و خال سے کھل جاتا ہے

رنگ ہنس پڑتے ہیں تصویر کو سادہ کرکے

آج تک اپنی۔۔ محبت کی نہ تکمیل ہوئی

بارہا دیکھ لیا ۔۔ ہم نے ۔۔ اعادہ کرکے

 

اپنی توسیع مظفرؔ مرے کس کام آئی

بڑھ گئی اور گھٹن ذہن کشادہ کرکے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اس کی عادت ہے بھلا دیتا ہے وعدہ کرکے
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
تصور سے بھی آگے تک درو دیوار کُھل جائیں