جب تک کہ غمِ انساں سے جگرؔ انسان کا دل معمور نہیں

غزل| جگرؔ مراد آبادی انتخاب| بزم سخن

جب تک کہ غمِ انساں سے جگرؔ انسان کا دل معمور نہیں
جنت ہی سہی دنیا لیکن جنت سے جہنم دور نہیں
جز ذوقِ طلب جز شوقِ سفر کچھ اور مجھے منظور نہیں
اے عشق بتا اب کیا ہوگا کہتے ہیں کہ منزل دور نہیں
واعظ کا ہر اک ارشاد بجا تقریر بہت دل چسپ مگر
آنکھوں میں سرورِ عشق نہیں چہرہ پہ یقیں کا نور نہیں
میں زخم بھی کھاتا جاتا ہوں قاتل سے بھی کہتا جاتا ہوں
توہین ہے دست و بازو کی وہ وار کہ جو بھرپور نہیں
اس نفع و ضرر کی دنیا سے میں نے یہ لیا ہے درسِ جنوں
خود اپنا زیاں تسلیم مگر اوروں کا زیاں منظور نہیں

ارباب ستم کی خدمت میں اتنی ہی گزارش ہے میری
دنیا سے قیامت دور سہی دنیا کی قیامت دور نہیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام