محبت کار فرمائے دو عالم ہوتی جاتی ہے

غزل| جگرؔ مراد آبادی انتخاب| بزم سخن

محبت کار فرمائے دو عالم ہوتی جاتی ہے
کہ ہر دنیائے دل شائستہِ غم ہوتی جاتی ہے
ہر اک صورت ہر ایک تصویر مبہم ہوتی جاتی ہے
الٰہی! کیا مری دیوانگی کم ہوتی جاتی ہے
زمانہ گرم رفتارِ ترقی ہوتا جاتا ہے
مگر اک چشمِ شاعر ہے کہ پرنم ہوتی جاتی ہے
جہاں تک توڑتا جاتا ہوں رسمِ ظاہر و باطن
دلیلِ عاشقی اتنی ہی محکم ہوتی جاتی ہے
جہاں تک دل کا شیرازہ فراہم کرتا جاتا ہوں
یہ محفل اور برہم اور برہم ہوتی جاتی ہے
نزاکت ہائے احساسِ محبت اے معاذ اللہ
کہ اب اک اک گھڑی ایک ایک عالم ہوتی جاتی ہے
غرورِ حسن رخصت الفراق ائے نازِ خود بینی
مزاجِ حسن سے اب تمکنت کم ہوتی جاتی ہے
یہی جی چاہتا ہے چھیڑتے ہی چھیڑتے رہیئے
بہت دلکش ادائے حسن برہم ہوتی جاتی ہے
ارے توبہ یہ تکمیلِ شباب و حسن ارے توبہ
کہ ہر ظالم ادا تقدیرِ عالم ہوتی جاتی ہے
تصور رفتہ رفتہ اک سراپا بنتا جاتا ہے
وہ اک شے جو مجھی میں ہے مجسم ہوتی جاتی ہے
وہ رہ رہ کر گلے مل مل کے رخصت ہوتے جاتے ہیں
مری آنکھوں سے یا رب روشنی کم ہوتی جاتی ہے
جدھر سے میں گزرتا ہوں نگاہیں اٹھتی جاتی ہیں
مری ہستی بھی کیا تیرا ہی عالم ہوتی جاتی ہے

جگرؔ تیرے سکوتِ غم نے یہ کیا کہہ دیا ان سے
جھکی پڑتی ہیں نظریں آنکھ پرنم ہوتی جاتی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام