فریبِ خندۂ پیہم کسی کو کیا معلوم


09-07-2019 | اقبالؔ عظیم

فریبِ خندۂ پیہم کسی کو کیا معلوم

بپا ہے دل میں جو ماتم کسی کو کیا معلوم

میں ہنس رہا ہوں بظاہر مگر مرے دل پر

گزر رہا ہے جو عالم کسی کو کیا معلوم

بیانِ حال بصد احتیاط ہے منظور

رموزِ گریۂ کم کم کسی کو کیا معلوم

لبوں تک آ کے چھلک جائیں جس سے پیمانے

اُس اک نگاہ کا عالم کسی کو کیا معلوم

یہ حسنِ سادہ و معصوم ہے نظر کا فریب

مزاجِ گیسوئے برہم کسی کو کیا معلوم

چمن کے لوگ فدا ہیں تبسمِ گل پر

پیامِ گریۂ شبنم کسی کو کیا معلوم

 

 

اِسی پہ دامنِ رحمت کو ناز ہے اقبالؔ

مقامِ دیدۂ پُرنم کسی کو کیا معلوم




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
تری نگاہ کی ہر جنبشِ حجابانہ
مدینہ کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
فریبِ خندۂ پیہم کسی کو کیا معلوم