سحاب تھا کہ ستارہ گریز پا ہی لگا


10-07-2019 | پروینؔ شاکر

سحاب تھا کہ ستارہ گریز پا ہی لگا

وہ اپنی ذات کے ہر رنگ میں ہوا ہی لگا

میں ایسے شخص کی معصومیت پہ کیا لکھوں

جو مجھ کو اپنی خطاؤں میں بھی بھلا ہی لگا

زباں سے چپ ہے مگر آنکھ بات کرتی ہے

نظر اٹھائی ہے جب بھی تو بولتا ہی لگا

جو خواب دینے پہ قادر تھا میری نظروں میں

عذاب دیتے ہوئے بھی مجھے خدا ہی لگا

 

نہ میرے لطف پہ حیراں نہ اپنی الجھن پر

مجھے یہ شخص تو ہر شخص سے جدا ہی لگا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
قریۂ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئے
جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
سحاب تھا کہ ستارہ گریز پا ہی لگا