سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے​

سید اقبالؔ عظیم
سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے​
وہ امامِ صفِ انبیاء ہیں اُن کا رتبہ بڑوں سے بڑا ہے​
کوئی لفظوں سے کیسے بتا دے اُن کے رتبے کی حد ہے تو کیا ہے​
ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے صرف اللہ اُن سے بڑا ہے​
وہ جو اک شہر نور الہدیٰ ہے جلوہ گاہوں کا اک سلسلہ ہے​
جس کی ہر صبح شمس الضحیٰ ہے جس کی ہر شام بدر الدجیٰ ہے​
نام جنت کا تم نے سنا ہے میں نے اس کا نظارا کیا ہے​
میں یہاں سے تمہیں کیا بتا دوں اُن کی نگری کی گلیوں میں کیا ہے​
کتنا پیارا ہے موسم وہاں کا کتنی پر کیف ساری فضا ہے​
تم میرے ساتھ خود چل کے دیکھو گرد طیبہ بھی خاک شفا ہے​
مستقل اُن کی چوکھٹ عطا ہو میرے معبود یہ التجا ہے​
کوئی پوچھے تو یہ کہہ سکوں میں بابِ جبرئیل میرا پتہ ہے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام