وہ اہتمامِ جشنِ بہاراں نہ کر سکے


08-07-2019 | آل احمد سرورؔ

وہ اہتمامِ جشنِ بہاراں نہ کر سکے

خونِ جگر جو صرفِ گلستاں نہ کر سکے

سارا ملال وقفِ نشاطِ نظر ہوا

اُن سے ملے تو شکوۂ ہجراں نہ کر سکے

تیری خلش نے زیست کا ہر غم بھلا دیا

ان حسرتوں پہ پھر کوئی ارماں نہ کر سکے

محرومیوں پہ اُن کی ہے ساحل کی آنکھ نم

جو خود کو غرقِ عشرتِ طوفاں نہ کر سکے

کس درجہ حسن کا ہمیں پردہ عزیز تھا

دنیا میں کوئی کارِ نمایاں نہ کر سکے

جن کی نگاہِ لطف بھی آبِ حیات ہے

وہ بھی علاجِ تلخیٔ درواں نہ کر سکے

 

 

دیر و حرم میں لاکھ بھٹکتے پھرے سرورؔ

لیکن خلافِ شیوۂ رنداں نہ کر سکے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ہر اک جنت کے رستے ہوکے دوزخ سے نکلتے ہیں
وہ اہتمامِ جشنِ بہاراں نہ کر سکے
بشر کی روح میں یہ اضطراب کیسا ہے