رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا


20-05-2019 | خالدؔ شریف

رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا

جو اُس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

دلچسپ واقعہ ہے کہ کل اِک عزیز دوست

اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا

کتنی سدھر گئی ہے جدائی میں زندگی

ہاں وہ جفا سے مجھ پہ تو احسان کر گیا

 

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان

وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا
درختوں سے جدا ہوتے ہوئے پتے اگر بولیں
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی