تجھے ائے دشمنِ ایماں کہیں کیا کس قدر چاہا

غزل| شان الحق حقیؔ انتخاب| بزم سخن

تجھے ائے دشمنِ ایماں کہیں کیا کس قدر چاہا
کہ پتھر جان کر پوجا ستم گر مان کر چاہا
نہ پوچھو جرعۂ آبِ بقا کی تلخیاں ہم سے
کہ جھیلی جانکنی پیہم جو جینا لمحہ بھر چاہا
خرد کی نوکِ ناخن بھی شریکِ نشترِ غم ہے
ہر اک آزارِ ہستی نے مرے ہی دل میں گھر چاہا
دل ایسا دشمنِ آسودگی نکلا کہ کیا کہیے
نگاہوں نے بہت دنیا سے رکھنا بے خبر چاہا
ترے اس کشتۂ تیغِ ادا کو مرحبا جس نے
نہ جلنا آگ میں سیکھا نہ کھنچنا دار پر چاہا
بھلا اُس جانِ جاں کو کس جگر سے بے وفا کہیے
کہ جس نے ناز بھی کرنا ہمیں سے خاص کر چاہا
وہ کیا غم تھا خدایا جس کے خاطر ہم نے دل پایا
وہ سودا کون سا تھا جس کے خاطر ہم نے سر چاہا
رہائی دردِ ہستی سے کہاں گو دردِ سر کہیے
گیا سر ہی سے وہ جس نے علاجِ دردِ سر چاہا

ہنر کیا عیب کیا حقیؔ زہے وہ قدر داں میرے
جنھوں نے عمر بھر مجھ کو سمجھ کر بے ہنر چاہا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام