بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی


08-01-2019 | خالدؔ شریف

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

 

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان

وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
رخصت ہوا تو بات مری مان کر گیا
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
درختوں سے جدا ہوتے ہوئے پتے اگر بولیں