جو بھی چلاّ کے ترنم میں ہیں گانے والے


26-04-2019 | افتخار راغبؔ

جو بھی چلاّ کے ترنم میں ہیں گانے والے

آج ان کو ہی بلاتے ہیں بلانے والے

کم سے کم میرا تخلص تو مجھے لوٹا دے

نام سے اپنے غزل میری سنانے والے

بھیج کر سارے ہی نیتاؤں کو سرحد پر لوگ

شاعروں کو ہیں الکشن میں لڑانے والے

آپ کو جُون میں بھی آب سے ڈر لگتا ہے

جنوری میں بھی نہاتے ہیں نہانے والے

دوستوں میں نظر آئیں گے پرانے دشمن

دشمنوں میں ہیں کئی دوست پرانے والے

کب تھے ہم دوست؟ ذرا یاد دلا دے پہلے

دشمنی کے لیے اے ہاتھ بڑھانے والے

دانت منہ میں ہے نہ انگلی میں ہے جنبش پھربھی

باز آتے ہیں کہاں عشق لڑانے والے

کون ہیں امن کے دشمن میں بتاؤں تم کو

کون انساں کو ہیں انساں سے لڑانے والے

جس پہ کرتے تھے سواری کبھی رام اور لکھن

اب اُسی رتھ پہ ہیں راون کے گھرانے والے

دل سے ہنستا ہے اُسی وقت زمانہ راغبؔ

خود پہ جب ہنستے ہیں اوروں کو ہنسانے والے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
تیزاب کی آمیزش یا زہر ہے پانی میں
ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں
کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
اندازِ ستم اُن کا نہایت ہی الگ ہے