تیزاب کی آمیزش یا زہر ہے پانی میں


24-01-2019 | افتخار راغبؔ

تیزاب کی آمیزش یا زہر ہے پانی میں

مرجھانے لگے پودے کیوں عہدِ جوانی میں

تنکا ہوں کہ بہہ جاؤں برسات کے پانی میں

قائم ہوں چٹانوں سا دریا کی روانی میں

اُس پر ہی نہ جانے کیوں ہم جان لُٹا بیٹھے

معلوم نہیں کیا تھا اُس دشمنِ جانی میں

اشعار میں اب جدّت آئے گی نظر ان کو

اب ربط نہیں کوئی الفاظ و معانی میں

اُن کے بھی فسانے میں کردار مرا روشن

گم گشتہ  نہیں  ہوں  میں  اپنی  ہی  کہانی  میں

بیدار بھی رہنے کا ہے دور یہی راغبؔ

غفلت کی خماری بھی چڑھتی ہے جوانی میں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اندازِ ستم اُن کا نہایت ہی الگ ہے
ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں
کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
تیزاب کی آمیزش یا زہر ہے پانی میں
وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے