سمومِ کرب سے جھلسی کلی معلوم ہوتی ہے

غزل| خالد فیصلؔ غازی پوری انتخاب| بزم سخن

سمومِ کرب سے جھلسی کلی معلوم ہوتی ہے
چمن میں اب تو ہر سو بے کلی معلوم ہوتی ہے
نگاہ و قلب میں ہو گر بسی بوئے گلِ جاناں
تو پھر کیفِ فراواں زندگی معلوم ہوتی ہے
ابھی تک موجِ دریا کے سہارے میری کشتی تھی
خضر آئے تو کشتی ڈوبتی معلوم ہوتی ہے
بدل کس نے دیا آئینِ میکش مے کدہ ساقی
جہاں میں اب تو ہر شے اجنبی معلوم ہوتی ہے
ترے ایماء ہی پہ آئے تھے ہم میخانہ ائے ساقی
مگر جلوؤں میں چاہت کی کمی معلوم ہوتی ہے
نہیں شکوہ خزاوؤں کو چمن میں ائے چمن والو
بہاروں میں بھی اب تیرہ شبی معلوم ہوتی ہے
خرد نے عقلِ کل سمجھا تھا دلبر جب کو جانا تھا
محض فن کار کی وہ آزری معلوم ہوتی ہے
کہاں تک داستانِ غم سناؤں تجھ کو ائے فیصلؔ
کہ اس سے بھی تو اب شرمندگی معلوم ہوتی ہے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام