غبار دل سے نکال دیتے


09-04-2019 | افتخار راغبؔ

غبار دل سے نکال دیتے

تو سب تمہاری مثال دیتے

تم اپنے زرّیں خیال دیتے

ہم اُن کو شعروں میں ڈھال دیتے

چراغِ الفت جلا کے دل میں

ہماری دنیا اُجال دیتے

تمہاری آنکھوں کو دیکھ کر بھی

مثالِ چشمِ غزال دیتے؟

 

نکھر رہی ہے حیات راغبؔ

غزل کو رزقِ حلال دیتے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
غبار دل سے نکال دیتے
کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
تیزاب کی آمیزش یا زہر ہے پانی میں
وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے
ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں