ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں


21-11-2016 | افتخار راغبؔ

ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں

پھر بھی کتنا فاصلہ ہے میرے اُس کے درمیاں

میرے اُس کے درمیاں یوں ہی رہیں گی رنجشیں

کوئی جب تک تیسرا ہے میرے اُس کے درمیاں

بات ہم دونوں کی ہے ہم خود نمٹ لیں گے کبھی

کیوں زمانہ بولتا ہے میرے اُس کے درمیاں

کل تلک تھے ساتھ ہم اِک دوسرے کے اور آج

مدّتوں کا فاصلہ ہے میرے اُس کے درمیاں

چھوٹی موٹی رنجشیں ہیں خود بہ خود مٹ جائیں گی

اور ابھی بگڑا ہی کیا ہے میرے اُس کے درمیاں

اُس کو بھی ہو جائے گی مجھ سے محبّت پر ابھی

گفتگو کا سلسلہ ہے میرے اُس کے درمیاں

 

آرزو دل کی ہے راغبؔ عمر بھر روشن رہے

جو یقیں کا اِک دیا ہے میرے اُس کے درمیاں

 

 




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں
تیزاب کی آمیزش یا زہر ہے پانی میں
اندازِ ستم اُن کا نہایت ہی الگ ہے
وہی جو خالق جہان کا ہے وہی خدا ہے وہی خدا ہے