پرانے دور ، گذشتہ سفر ، خدا حافظ


20-11-2016 | سعودؔ عثمانی

پرانے دور  ،  گذشتہ سفر ، خدا حافظ

یہاں تک آتی ہوئی رہگزر  ، خدا حافظ

 

میں ایک بار کے الفاظ کم سمجھتا ہوں

یہ آنکھ کہتی ہے بارِ دگر ، خدا حافظ

 

بچھڑ کے جاتے ہوئے عشق  فی امان اللہ

تو میرے ساتھ رہے گا مگر ، خدا حافظ

 

نکالنے سے کوئی دل سے کب نکلتا ہے

میں کہہ سکا نہ اسےعمر بھر ، خدا حافظ

 

سڑک کی رہ میں ہمارا مکان آیا ہے

سو میرے اور پرندوں کے گھر ، خدا حافظ

 

میں کیا کروں مجھے تنہائی راس آتی ہے

سو اب فراق ہے خواجہ خضر ، خدا حافظ

 

کسے خبر ہے یہ مہلت بھی پھر ملے  ، نہ ملے

میں تیرے پاس ہوں اے دوست پَر ، خدا حافظ

 

خوش آمدید رقم ہے اسی کے ساتھ سعودؔ

سڑک پہ لکھا ہوا ہے جدھر ، خدا حافظ




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اشک زیادہ سینے میں کم آنکھوں میں
حسابِ ترکِ تعلق تمام میں نے کیا
پرانے دور ، گذشتہ سفر ، خدا حافظ
ٹہر ٹہر کے زمیں سائے دار کرتے ہوئے
چشمِ بے خواب پہ خوابوں کا اثر لگتا ہے