دل عشق میں بے پایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو


22-11-2016 | ابن انشاءؔ

دل عشق میں بے پایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو

دریا ہو تو ایسا ہو ، صحرا ہو تو ایسا ہو

ہم سے نہیں رشتہ بھی ، ہم سے نہیں ملتا بھی

ہے پاس وہ بیٹھا بھی ، دھوکہ ہو تو ایسا ہو

دریا بہ حباب اندر ، طوفاں بہ سحاب اندر

محشر بہ حجاب اندر ، ہونا ہو تو ایسا ہو

وہ بھی رہا بیگانہ ، ہم نے بھی نہ پہچانا

ہاں ، اے دلِ دیوانہ ، اپنا ہو تو ایسا ہو

ہم نے یہی مانگا تھا ، اس نے یہی بخشا ہے

بندہ ہو تو ایسا ہو ، داتا ہو تو ایسا ہو

اس دور میں کیا کیا ہے ، رسوائی بھی ، لذّت بھی

کانٹا ہو تو ایسا ہو ، چُبھتا ہو تو ایسا ہو

 

اے قیس جنوں پیشہ ، انشاؔء کو کبھی دیکھا

وحشی ہو تو ایسا ہو ، رسوا ہو تو ایسا ہو




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو
دل عشق میں بے پایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو
اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا