کس نے غنچوں کو نازکی بخشی


28-08-2016 | افتخار راغبؔ

کس نے غنچوں کو نازکی بخشی

سنگ کو کس نے ۔۔ پختگی بخشی

کس نے بخشی ۔۔ زباں کو گویائی

کس نے آنکھوں کو روشنی بخشی

کس نے ۔۔ پرواز کا ہنر بخشا

کس نے ۔۔ فہمِ شناوری بخشی

ابر سے ۔۔ آب کس نے برسا کر

مردہ مٹّی ۔۔ کو زندگی ۔۔ بخشی

کون آب و ہوا ۔۔ کا مالک ہے

کس نے  پودوں کو تازگی بخشی

پنکھ کس نے دیے ۔۔ پرندوں کو

کس نے پھولوں کو پنکھڑی بخشی

پیڑ پودے اگائے ہیں کس نے

کس نے دھرتے کو دلکشی بخشی

کون خالق ہے ۔۔ سب زبانوں کا

کس نے اردو کو ۔۔ چاشنی بخشی

کس نے ایمان کی نمو کے لئے

علم و حکمت کی ۔۔ روشنی بخشی

کس نے اشرف ۔۔ بنایا انساں کو

کس نے خاکی کو ۔۔ برتری بخشی

 

کس نے بخشا ہمیں قلم راغبؔ

کس نے ۔۔ تنویرِ آگہی بخشی




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کس نے غنچوں کو نازکی بخشی
کیوں نہ اِس راہ کا ایک ایک ہو ذرّہ روشن
غبار دل سے نکال دیتے
ایک رشتہ درد کا ہے میرے اُس کے درمیاں
جو بھی چلاّ کے ترنم میں ہیں گانے والے