کبھی زباں پہ تھا افسانۂ لب و رخسار


16-08-2016 | مولانا عامرؔ عثمانی

کبھی زباں پہ تھا ۔۔ افسانۂ لب و رخسار

مگر شعور جو آیا ۔۔۔ تو ہم نے ہاتھ ملے

 

کوئی بھی ۔۔ عقدۂ دشوارِ زندگی نہ کھلا

بہت سی عمر گزاری ہے گیسوؤں کے تلے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
نہیں کہ جادۂ عیش و نشاط پا نہ سکے
کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ الزام ہے
دیوانوں کو اہلِ خرد نے چوراہے پر سولی دی ہے
نہ سکت ہے ضبطِ غم کی نہ مجالِ اشک باری
سحر کے انوار دیکھتا ہوں طلوعِ نجمِ سحر سے پہلے