دیوانوں کو اہلِ خرد نے چوراہے پر سولی دی ہے


11-06-2016 | مولانا عامرؔ عثمانی

دیوانوں کو اہلِ خرد نے ۔۔۔ چوراہے پر سولی دی ہے

تھی یہ فردِ جرم کہ اُس نے ۔۔ فرزانوں پر کنکر پھینکا

بارِ الہا ۔۔ تیری دُہائی ۔۔۔ یہ منصف تو اہلِ نظر ہیں

اِن کو خبر ہے سنگِ ملامت پہلے کس نے کس پر پھینکا 

 

شرم سے گردن جھک جاتی ہے یہ اَن کہنی کیسے کہوں میں

کن کن لوگوں نے چھپ چھپ کر دور سے مجھ پر خنجر پھینکا

اپنوں ہی کی راہبری تھی جس کے بھروسے میں نے اکثر

زہر خریدا ۔۔ اَمرت چھوڑا ۔۔ کنکر ڈھونڈا ۔۔ گوہر پھینکا

 

طعنۂ عصیاں دینے والو! ۔۔ ایک نظر اس پر بھی ڈالو

میری توبہ کے شیشے پر ۔۔ فطرت نے خود پتھر پھینکا

بے موسم گھِر آئے بادل ۔۔ بِن بادل بھی برسا پانی

میں نے جب بھی توبہ کر کے مینا توڑی ، ساغر پھینکا

 

میری نظر میں یہ بھی ساقی کم نظری ہے ، بے ادبی ہے

یہ کس نے ۔۔ ٹوٹا ہوا ساغر ۔۔ میخانے سے ۔۔ باہر پھینکا

میخواروں کو ۔۔ یہ تو خبر تھی ۔۔ اس کو تیرا ہاتھ لگا ہے

باہر کی ناپاک زمیں پر ۔۔ پھر کس دل سے کیوں کر پھینکا

 

عامرؔ میری تشنہ لبی سے یوں بھی کھیل کیا ساقی نے

میرے ہی آگے صہبا کو ۔۔۔ پیمانے میں بھر بھر پھینکا

میں پھر بھی تاویل ہی کوئی ۔۔۔ کر لیتا لیکن ظالم نے

پاس بُلا کر ، آس بندھا کر ، دکھلا کر ، جتلا کر پھینکا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
سحر کے انوار دیکھتا ہوں طلوعِ نجمِ سحر سے پہلے
جنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ہوں میں
نہیں کہ جادۂ عیش و نشاط پا نہ سکے
کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ الزام ہے
نہ سکت ہے ضبطِ غم کی نہ مجالِ اشک باری