چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے

غزل| سیمابؔ اکبر آبادی انتخاب| بزم سخن

چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے
قفس میں رہ کے قدرِ آشیاں معلوم ہوتی ہے
کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اُسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
کسی کے دل میں گنجائش نہیں وہ بارِ ہستی ہوں
لحد کو بھی مری مٹی گراں معلوم ہوتی ہے
ہوائے شوق کی قوت وہاں لے آئی ہے مجھ کو
جہاں منزل بھی گردِ کارواں معلوم ہوتی ہے
ترقی پر ہے روز افزوں خلش دردِ محبت کی
جہاں محسوس ہوتی ہے وہاں معلوم ہوتی ہے
نہ کیوں سیمابؔ مجھ کو قدر ہو ویرانیٔ دل کی
یہ بنیادِ نشاطِ دو جہاں معلوم ہوتی ہے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام